![]() |
| Abdul Sattar Khan Niazi |
LIVE ARTICLES
Real-Time Feed
MY LATEST BLOGGER POSTS
میانوالی کے تازہ ترین مضامین، خبریں اور تحریریں
# عیسیٰ خیل سے قومی سیاست تک: مولانا عبدالستار خان نیازیؒ کی حیات و خدمات
تاریخ کے اوراق میں کچھ نام ایسے ہوتے ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ ماند نہیں پڑتے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے جدوجہد، اصول پسندی اور عزم کی مثال بن جاتے ہیں۔ ضلع میانوالی کی سرزمین سے اٹھنے والی ایسی ہی ایک عظیم شخصیت **مولانا عبدالستار خان نیازیؒ** کی ہے — ایک عالمِ دین، محقق، تحریکِ پاکستان کے سرگرم کارکن، اور بے باک سیاسی و پارلیمانی رہنما۔
## پیدائش اور خاندانی پس منظر
مولانا عبدالستار خان نیازیؒ یکم اکتوبر 1915ء کو تحصیل عیسیٰ خیل، ضلع میانوالی میں پیدا ہوئے، جو اس وقت برطانوی ہند کے پنجاب صوبے کا حصہ تھا۔ آپ کا تعلق نیازی قبیلے کے ایک معزز اور علم دوست گھرانے سے تھا۔ بچپن ہی سے علم کے حصول، دینی وابستگی اور حق گوئی کا جذبہ آپ کی شخصیت کا نمایاں پہلو تھا۔
## تعلیمی سفر
ابتدائی تعلیم کے بعد آپ نے اعلیٰ دینی اور عصری تعلیم کے لیے لاہور کا رخ کیا۔ آپ نے اسلامیہ کالج لاہور سے 1940ء میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی، اور بعد ازاں اسی ادارے میں شعبہ اسلامیات کے ڈین کے طور پر خدمات انجام دیں، جو منصب آپ نے 1947ء تک نبھایا۔ یوں آپ کی شخصیت میں علم، دین اور قومی شعور کا خوبصورت امتزاج پیدا ہوا۔ [Wikipedia]
## تحریکِ پاکستان میں کردار
1938ء میں آپ پنجاب مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صدر منتخب ہوئے اور قیامِ پاکستان تک صوبائی مسلم لیگ کی صدارت پر بھی فائز رہے۔ اس دور میں آپ کا شمار علامہ اقبال اور قائداعظم محمد علی جناح کے قابلِ اعتماد ساتھیوں میں ہوتا تھا۔ آپ نے اپنی تقریر، تحریر اور بھرپور سیاسی سرگرمیوں کے ذریعے تحریکِ پاکستان کے پیغام کو عام کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ [Wikipedia]
## تحریکِ ختمِ نبوت اور سزائے موت
قیامِ پاکستان کے بعد بھی مولانا نیازیؒ نے اسلامی اقدار، ختمِ نبوتﷺ کے تحفظ اور عوامی حقوق کے لیے آواز بلند کرنا جاری رکھا۔ 1953ء کی تحریکِ ختمِ نبوت کے دوران، لاہور میں احمدیوں کے خلاف ہونے والے فسادات کے سلسلے میں مولانا مودودیؒ کے ہمراہ آپ کو بھی گرفتار کیا گیا، اور فوجی عدالت نے دونوں رہنماؤں کو سزائے موت سنائی، تاہم بعد میں انہیں رہا کر دیا گیا۔ [punjab]
تختۂ دار کے سائے میں بھی آپ کے عزم و حوصلے نے کمزوری اختیار نہ کی۔ زندگی کا یہ باب آپ کے ایمان، استقامت اور قربانی کے جذبے کی روشن مثال کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔
## قومی سیاست اور پارلیمانی خدمات
1964ء کے صدارتی انتخاب میں مولانا نیازیؒ نے محترمہ فاطمہ جناح کی حمایت کی اور جمہوری جدوجہد میں فعال کردار ادا کیا۔ بعد ازاں آپ جمعیت علمائے پاکستان کے پلیٹ فارم سے قومی سیاست میں سرگرم رہے۔ آپ 1988ء سے 1990ء اور پھر 1990ء سے 1993ء تک حلقہ این اے-53 میانوالی سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔
آزادی کے بعد میانوالی کی سیاست پر نواب آف کالا باغ اور ان کے حواریوں کا اثر و رسوخ غالب رہا، جبکہ مولانا عبدالستار خان نیازیؒ اس گروہ کے سیاسی مخالفین میں شامل تھے اور جمعیت علمائے پاکستان کے ایک بارُعب رہنما کی حیثیت سے مقامی سیاست میں اپنا اثر رکھتے تھے۔ میانوالی کے عوام کے ساتھ آپ کا تعلق محض سیاسی وابستگی تک محدود نہ تھا بلکہ آپ ان کے مسائل کو اپنی جدوجہد کا حصہ سمجھتے تھے۔ [dawn]
## شخصیت اور طرزِ زندگی
اقتدار اور عوامی مقبولیت کے باوجود آپ کی سادہ طرزِ زندگی متاثر نہ ہوئی۔ آپ سادہ مزاج، ملنسار، شفیق اور درویش صفت انسان کے طور پر معروف تھے۔ آپ کی زندگی اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ سیاست محض اقتدار کا نام نہیں بلکہ نظریے، خدمتِ خلق اور اصولوں کے لیے جدوجہد کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔
## وفات اور مدفن
مولانا عبدالستار خان نیازیؒ 2 مئی 2001ء کو 85 برس کی عمر میں میانوالی میں انتقال فرما گئے۔ آپ کا مزار میانوالی-عیسیٰ خیل روڈ پر روکھڑی موڑ کے قریب واقع ہے، جہاں آج بھی عقیدت مند حاضری دیتے ہیں۔
## پیغام و میراث
عیسیٰ خیل جیسے نسبتاً دور افتادہ علاقے سے تعلق رکھنے والے اس مردِ درویش نے اپنی علمی، دینی اور سیاسی جدوجہد کے ذریعے قومی سطح پر شناخت حاصل کی۔ ان کی زندگی یہ پیغام دیتی ہے کہ عظمت کا تعلق بڑے شہروں یا وسائل سے نہیں بلکہ علم، کردار اور اصولوں پر ثابت قدمی سے ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ مولانا عبدالستار خان نیازیؒ کی مغفرت فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔
*تحریر و تحقیق: حاجی رفیع اللہ خان نیازی*
