میانوالی کے دو روشن چہرے — منصب بڑا، مگر دل اس سے بھی بڑا ❤️
کچھ لوگ اپنے عہدے سے پہچانے جاتے ہیں اور کچھ اپنے کردار، اخلاق اور انسانیت سے۔ ڈاکٹر شرجیل سرفراز احمد شیخ اور ان کے بھائی ڈاکٹر تنزیل شیخ انہی خوبصورت لوگوں میں سے ہیں جنہیں دیکھ کر یقین ہوتا ہے کہ میانوالی کے لوگ جہاں بھی ہوں، اپنی مٹی کا نام روشن کرتے ہیں۔
ڈاکٹر شرجیل سرفراز احمد شیخ، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ بے نظیر بھٹو ہسپتال راولپنڈی، ایک بڑے انتظامی منصب پر ہونے کے باوجود جس عاجزی اور خلوص سے مریضوں اور ان کے لواحقین سے ملتے ہیں، وہ دل جیت لیتا ہے۔ ان کی سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ ان کے لیے امیر و غریب کی کوئی تفریق نہیں۔ ہسپتال کے مختلف وارڈز میں اچانک پہنچ کر مریضوں کا حال پوچھنا اور ان کے مسائل خود سننا ان کی شخصیت کا خوبصورت پہلو ہے۔ ان کی patient welfare کے لیے سرگرم خدمات کو عوامی سطح پر بھی سراہا گیا ہے۔
اور اپنی مٹی میانوالی سے محبت کا عالم یہ ہے کہ جب انہیں بتایا جائے کہ میانوالی سے کوئی شخص ملنے آیا ہے تو مصروفیت اور عہدے کی تمام دیواریں پیچھے رہ جاتی ہیں؛ وہ جس محبت، اپنائیت اور احترام سے ملتے ہیں، انسان اسے مدتوں یاد رکھتا ہے۔
ان کے بھائی ڈاکٹر تنزیل شیخ، Consultant Cardiologist بھی اسی گھرانے کی خوبصورت تربیت کا عکس ہیں۔ دور دراز علاقوں سے آنے والا کوئی بے بس یا غریب مریض جب اپنی مجبوری بیان کرتا ہے تو وہ صرف ایک ڈاکٹر بن کر نہیں بلکہ ایک ہمدرد انسان بن کر اس کی بات سنتے اور پوری توجہ سے رہنمائی کرتے ہیں۔
یہ دونوں بھائی صرف میانوالی کا تعارف نہیں، میانوالی کا فخر ہیں۔
واقعی، میانوالی کے لوگ جہاں بھی ہوں اور جس شعبے میں ہوں، اپنی صلاحیت، خلوص اور کردار سے اپنی مٹی کی پہچان بن جاتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ڈاکٹر شرجیل سرفراز احمد شیخ اور ڈاکٹر تنزیل شیخ کو صحت، عزت اور کامیابی عطا فرمائے اور انہیں اسی طرح دکھی انسانیت کی خدمت کا وسیلہ بنائے۔ آمین۔ ❤️
اور میرے لیے آج بھی فیصلہ مشکل ہے کہ ان دونوں بھائیوں میں زیادہ اچھا کون ہے—کیونکہ دونوں کے منصب الگ سہی، مگر دل ایک ہی مٹی کی خوشبو اور انسانیت سے بھرے ہوئے ہیں۔
#Mianwali #DrSharjeelSarfrazAhmedSheikh #DrTanzeelSheikh #BenazirBhuttoHospital #MalikSammarAbbas
