" کھوتا ریڑھی ! سبزیاں ! صدائیں !"
موسی
جب بھی اپنے محلے میں جایا کرتا تھا تو
اسے
اکثر بڑوں سے
عموما
ایسی باتیں سننے کو ملا کرتی تھیں۔۔
اپنے والد سے کہیں !
وہ
تمھیں کھوتا ریڑھی لے دیں..
تاکہ
تم سبزیوں سے بھری ریڑھی لے کر
گاؤں گاؤں صدائیں لگاتے پھرو !
بھنڈی لے لو، ٹماٹر لے لو، توری لے لو، کدو لے لو !
تب
وہ میٹرک میں فیل ہونے کے بعد
سارا سارا دن
گلیوں میں مارا مارا پھرا کرتا تھا
اور
اس کے والدین بھی
کچھ حادثات کی وجہ سے
امیر سے غریب ہو چکے تھے۔۔
ان کی زمینیں بک چکی تھیں۔۔
اس کے
وہی ماں باپ
جب امیر تھے،
تب سمجھدار جانے جاتے تھے اور
جب غریب ہوئے تھے تو
بیوقوفوں میں شمار کیے جانے لگے تھے۔۔
موسی کو
سبزیاں اگانے سے،
کھوتا ریڑھی پر سبزیاں بیچنے سے،
گاوں گاوں صدائیں لگانے سے،
کوئی تکلیف نہ تھی
اور نہ ہی
اسے مزدوری کرنے میں
کبھی کوئی عار محسوس ہوئی تھی۔۔
اسے تو
بس
ان نصیحتوں میں
چھپے
طنز کے تیر گھائل کرتے جاتے تھے جو
اس کے
عظیم ماں باپ کی
غربت، مجبوری کو ڈھال بنا کر
اس کے سینے پر
بار بار برسائے جاتے تھے۔۔
شاید !
اللہ عزوجل کو
موسی پر
برسائے جانے والے
طنز و حقارت کے زہر میں بجھے
وہ تیر
بہت ہی زیادہ برے لگے تھے۔۔
اسی لیے
اب
وہی موسی
کھوتا ریڑھی پہ نہیں بلکہ
کار میں
اپنے ماں باپ کو بٹھائے،
گاوں گاوں
صدائیں لگاتا پھرتا ہے !
آئیں۔۔
اپنے اپنے عظیم والدین کے
قدموں تلے بچھتے چلے جائیں۔۔
دین و دنیا میں
رفعتیں سمیٹتے چلے جائیں۔۔
اپنے اپنے ماں باپ کا فخر بنتے چلے جائیں۔۔
اللہ عزوجل
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غلام بنتے چلے جائیں۔۔
_____ موساز _____
میانوالی سوشل میڈیاٹیم ملک ثمرعباس
موسی
جب بھی اپنے محلے میں جایا کرتا تھا تو
اسے
اکثر بڑوں سے
عموما
ایسی باتیں سننے کو ملا کرتی تھیں۔۔
اپنے والد سے کہیں !
وہ
تمھیں کھوتا ریڑھی لے دیں..
تاکہ
تم سبزیوں سے بھری ریڑھی لے کر
گاؤں گاؤں صدائیں لگاتے پھرو !
بھنڈی لے لو، ٹماٹر لے لو، توری لے لو، کدو لے لو !
تب
وہ میٹرک میں فیل ہونے کے بعد
سارا سارا دن
گلیوں میں مارا مارا پھرا کرتا تھا
اور
اس کے والدین بھی
کچھ حادثات کی وجہ سے
امیر سے غریب ہو چکے تھے۔۔
ان کی زمینیں بک چکی تھیں۔۔
اس کے
وہی ماں باپ
جب امیر تھے،
تب سمجھدار جانے جاتے تھے اور
جب غریب ہوئے تھے تو
بیوقوفوں میں شمار کیے جانے لگے تھے۔۔
موسی کو
سبزیاں اگانے سے،
کھوتا ریڑھی پر سبزیاں بیچنے سے،
گاوں گاوں صدائیں لگانے سے،
کوئی تکلیف نہ تھی
اور نہ ہی
اسے مزدوری کرنے میں
کبھی کوئی عار محسوس ہوئی تھی۔۔
اسے تو
بس
ان نصیحتوں میں
چھپے
طنز کے تیر گھائل کرتے جاتے تھے جو
اس کے
عظیم ماں باپ کی
غربت، مجبوری کو ڈھال بنا کر
اس کے سینے پر
بار بار برسائے جاتے تھے۔۔
شاید !
اللہ عزوجل کو
موسی پر
برسائے جانے والے
طنز و حقارت کے زہر میں بجھے
وہ تیر
بہت ہی زیادہ برے لگے تھے۔۔
اسی لیے
اب
وہی موسی
کھوتا ریڑھی پہ نہیں بلکہ
کار میں
اپنے ماں باپ کو بٹھائے،
گاوں گاوں
صدائیں لگاتا پھرتا ہے !
آئیں۔۔
اپنے اپنے عظیم والدین کے
قدموں تلے بچھتے چلے جائیں۔۔
دین و دنیا میں
رفعتیں سمیٹتے چلے جائیں۔۔
اپنے اپنے ماں باپ کا فخر بنتے چلے جائیں۔۔
اللہ عزوجل
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غلام بنتے چلے جائیں۔۔
_____ موساز _____
میانوالی سوشل میڈیاٹیم ملک ثمرعباس

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں