" ماں گھر ہے ! ماں ہی صحن ہے !"
الحمداللہ..
والدہ محترمہ کے معاملے میں
میں
بڑا نہیں ہو پا رہا ہوں..
ابھی تک
ویسے ہی چھوٹا بچہ ہوں,
جیسے
پانچ سال کی عمر میں ہوا کرتا تھا..
بچپن سے
آج تک
جب بھی گھر داخل ہوتا ہوں,
اماں جان نظر نہ آئیں تو
اماں ! اماں ! کی مالا جپنا شروع کر دیتا ہوں..
بابا جان بھی
میری آواز سن کر
انھیں بلانا شروع کر دیتے ہیں !
محمد حنیف خان دی ما !
اڈے آ ! پتر آ گیا ہئی !
الغرض
سب گھر والے
ہر صورت میں
اماں جان کو میرے سامنے
جلد از جلد لا کھڑا کرنے میں جت جاتے ہیں..
کیونکہ
سب کو خبر ہے کہ
وہ گھر پر موجود نہ ہوں,
اگر وہ محض
چند لمحوں کے لیے بھی جواب نہ دے پائیں تو
میری حالت
غیر ہونا شروع ہو جاتی ہے..
سب کو
ایسے لگتا ہے
جیسے
چھوٹے بچوں کی طرح
میں وگڑ جاؤں گا..
صحن میں پرتالیاں مارنا شروع کر دوں گا..
برتن پھینکنا شروع کر دوں گا..
دروازوں کے پلے
زور زور سے کھڑکانے لگوں گا..
دھلے برتنوں میں مٹی کا بک پھینک دوں گا..
کپڑوں کی تار سے,
دھلے کپڑے چھک چھک کر مٹی میں رول دوں گا..
شاید اسی لیے
میری ماں
ہمیشہ سے گھر پر
اس وقت ضرور موجود رہتی ہیں,
جب میرا گھر واپسی کا وقت ہوتا ہے..
ہمیشہ سے
شام کا کھانا
اماں جان کے سامنے بیٹھ کر
کھانے کی عادت ہے..
میں کھاتا جاتا ہوں..
کہتا جاتا ہوں..
اماں ! توں بھاجی بؤں چنگی پکینی ہیں !
وہ
سالن دیتی جاتی ہیں..
نہال ہوتی جاتی ہیں..
مجھے یاد ہے..
بچپن میں
ہر روز دیگر ویلے
چلہے میں پہنچ جایا کرتا تھا,
شم شم کرتی ہانڈی سے
بھونی کی فرمائش کیا کرتا تھا..
اماں جان مسکراتے ہوئے
بہت ساری بھونی(مسالہ)
یہ کہتے ہوئے
پلیٹ میں ڈال دیا کرتیں..
پتر ! بھونی نکل ونجے تاں کٹوی چنگی نیں پکدی !
تب بھی
میں
اماں جان کا چہرہ دیکھتا جاتا تھا..
اور مزے لے لے کر بھونی کھاتا جاتا تھا..
اب بھی
اماں جان کا چہرہ دیکھتا جاتا ہوں..
روٹی سالن کھاتا جاتا ہوں..
اپنے نصیبوں پر رشک کرتا جاتا ہوں, الحمداللہ..
----- موساز -----

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں