یونیورسٹی آف میانوالی کا ایڈمیشن ایڈ دیکھا۔اس ایڈ کا مجھے بڑی شدت سے انتظار تھا۔مگر ایڈ دیکھتے ہی مجھ سمیت میانوالی کے ہزاروں بچوں کے ارمانوں پر اوس پڑ گئ۔
کیونکہ ایف ایس سی پری انجینیرنگ کے بچوں کیلیے میتھ اور فزکس کے ایڈمیشن ہی نہیں تھے۔
دودن سے ذہنی صدمے میں ہوں کہ ہمارے مستقبل کا کیا بنےگا؟
اپنےضلع کی یونیورسٹی ہونے کے باوجود دردر کی ٹھوکریں کیوں کھايئں؟
ٹھیک ہے جو بچے افورڈ کر سکتے ہیں وہ باہر کسی یونیورسٹی میں اپلائ کردیں گے۔میں اور مجھ جیسی ہزاروں بیٹیاں جوباہر نہیں جاسکتی
جن کے لیے پڑھائ کےراستے پہلے ہی محدود ہیں۔
جن کی حد محض میانوالی یونیورسٹی ہی ہے ہم کہاں جايئں؟
میری کل ہی کلاس فیلو سے بات ہوئ دو دن سے رو رہی ہے کہ گھر والے بڑی مشکل سے یونی کیلیے مانے تھے اور اب متعلقہ مضمون ہی نہیں ہے انگلش میں انٹرسٹ نہیں ہے۔
اور رونا تو میرا بھی بنتا ہے کہ شادی کے بعد جب ہمارے سماج میں عورت کو کچھ بھی کرنے کی آزادی نہیں دی جاتی اس ماحول میں سسرال میں رہ کر بھی ایف ایس سی ریگولر اچھے مارکس کے ساتھ کلیر کرکے کچھ بننے کا خواب دیکھا تھا۔
آنکھوں میں ڈھیر سارے سپنے سجاۓ تھے ۔اپنے پسندیدہ مضامین میں بہت آگے جانے کاسوچا تھا مگر واۓ ری قسمت کہ سارے خواب ایک ایک کرکے چکنا چور ہوگۓ۔
اوریہ خواب کیو ں ٹوٹے؟
کیوں کہ میں وزیراعظم کے شہر میانوالی کی بیٹی ہوں۔ کیونکہ ہمارے میانوالی کی غیور عوام نے رات دن ایک کرکے اپنے پسندیدہ لیڈر کو ووٹ ڈالا تھا۔کیونکہ ہمیں مان تھا کہ ہمارے وزیراعظم صاحب اپنے ضلع کی ترقی میں قابل قدر کردار ادا کریں گے۔
میانوالی میں علم کی شمع روشن ہوگی۔جہالت کے اندھیرے چھٹ جايئں گے۔
میانوالی کی بیٹیاں ہاسٹلز کی ذلالت سےبچتےہوۓ بحفاظت اپنے گھروں سے پڑھنے جايئں گیاور بخیریت واپس آيئں گی۔
ہمارے بچے اپنے ضلع کی تعمیر و ترقی میں بھرپور حصہ لیں گے۔
مگر افسوس صد افسوس جناب عزت ماب وزیراعظم صاحب جنا ب امجد علی خان صاحب جناب سبطین صاحب کہ آپ کے آبائ علاقے کی یونیورسٹی آۓ سال کسی چھوٹے سکول کا منظر پیش کرتی جارہی ہے۔اساتذہ کی کمی انتظامیہ کی عدم دستیابی آپ کے علاقے کے بچوں کا روشن مستقبل کسی دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔
اور سونے پر سہاگہ یہ کہ جو چند ایڈمیشن ہوتے ہیں ان میں بھی آس پاس کے اضلاع کے بچے اپنی جگہ بنالیتے ہیں اور ہم ایک بار پھر اپنے ارمانوں کو مٹی میں ملتا دیکھ کر بے بسی کی عملی تصویر بن جاتے ہیں کہ کریں تو کیا کریں؟۔
میری میانوالی کی بااثرشخصیات سےاپیل ہے کہ خدارا اس مسئلے کا سدباب کریں۔خدارا اپنی بیٹیوںکو آگے بڑھنے دیں۔
میانوالی میں آۓ روز قتل و غارت میں ہوتا اضافہ تعلیم کے فقدان کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
ابھی بھی اگر آپ سوۓ رہے تو پھر میانوالی کی نوجوان نسل کا مستقبل آپ
ارباب اختیار اپنے ہاتھوں سےتباہ کرنے میں کوئ کسر نہیں چھوڑیں گے۔ کیونکہ
نابینا جنم لیتے ہیں اس قوم کے بچے
جو قوم دیاکرتی ہے تاوان میں آنکھیں۔
سدرہ نسیم تحریر
میانوالی سوشل میڈیاٹیم ملک ثمرعباس
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں