میرا میانوالی ---------------------------
کیا اچھا دور تھا --------- شوگر، بلڈ پریشر، دل کی بیماریوں اور کینسر وغیرہ کا نام و نشاں تک نہ تھا - اکا دکا لوگوں کو ٹی بی کا مرض لاحق ہوتا جو موت کا پروانہ سمجھا جاتا تھا ، کیونکہ اس زمانے میں ٹی بی ایک لا علاج مرض تھا - لیکن یہ بھی بہت کم ، بمشکل ایک فیصد لوگوں کو لاحق ہوتا تھا -
اس موسم میں ملیریا ہر گھر میں وارد ہوتا تھا - عام لوگ اسے موسمی بخار کہتے تھے - بخار اور سردرد کے ساتھ سردی بھی بہت لگتی تھی - یہ کیفیت دوتین دن رہتی تھی - ملیریا سے کسی کو مرتے تو نہ دیکھا، انسان اچھا خاصا خجل خوار ضرور ہوتا تھا - کچھ کھانے پینے کو جی نہیں چاہتا تھا - مائیں منت ترلے کر کے کچھ نہ کچھ بہرحال کھلا پلا دیتی تھیں -
داؤدخیل کے سرکاری ہسپتال سے پانی کے رنگ کی دوا (کونین مکسچر) اور اے پی سی کی پڑیاں ملتی تھیں - (ایک اے پی سی آج کل بہت مشہور ہے ، مگر وہ ملیریا کے علاج کے لیے نہیں ) - ہسپتال سے جو اے پی سی ملتی تھی وہ غیر سیاسی اے پی سی تھی جو بخار اور جسم کے درد کا علاج ہوا کرتی تھی - اس کے ساتھ لال رنگ کا شربت بھی ملتا تھا ، ہاضمے کا یہ شربت پہلے 28 نمبر کہلاتا تھا ، بعد میں 10 نمبر کہلانے لگا -
کونین مکسچر اور ہاضمے کے شربت کے لیے خالی بوتلیں مریضوں کو گھر سے لانی پڑتی تھیں - اے پی سی کی کاغذ کی پڑیاں ہوتی تھی - ایک خوراک صبح ، ایک دوپہر، ایک شام ، دو تین دن دوا لینی پڑتی تھی - سچ پوچھیئے تو ہم بچوں کو یہ بخار بہت وارے میں رہتا تھا - دوتین دن سکول سے چھٹی مفت مل جاتی تھی - بخار ختم ہونے کے بعد بھی سکول جانے کو دل نہیں چاہتا تھا ، مگر مائیں تھوڑی بہت بے عزتی کرکے سکول بہر صورت بھجوا دیتی تھیں-
دلچسپ بات یہ کہ ہمارے ہاں تو ملیریا سے کبھی کوئی نہ مرا ، انگریز جب یہاں تھے تو بہت مرے - ان کے لیے ملیریا شرطیہ موت ہوا کرتا تھا - اس کی وجہ آب و ہوا کا فرق تھا - ان کے علاقے میں ملیریا نہیں ہوتا تھا ، اس لیے ان کے جسم میں ملیریا کے خلاف دفاعی نظام ہی نہیں تھا - ادھر ہم تھے کہ ملیریا کے دوران موت قریب سے بھی نہیں گذرتی تھی - اللہ کی شان ہے -
------------------------------------------------------ رہے نام اللہ کا -------------------------------------------------------
------ منورعلی ملک ------
میانوالی سوشل میڈیاٹیم ملک ثمرعباس
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں