" بہت ہو چکا ! اب، مقابلہ ایسے ہوا کرے گا !"
ہم لوگ
مثبت مقابلہ کرنے کی بجائے،
اپنی خوبیوں کو
اپنی طاقت بنانے کی بجائے،
عموماً
اپنے مدمقابل کو
ناکام
اور بیوقوف انسان
ثابت کرنے میں ہی لگے رہتے ہیں۔۔
ہماری قوم کا یہ المیہ بن چکا ہے کہ
ہم
اپنے مدمقابل کو
نہ صرف
برباد ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں بلکہ
اس کی بربادی و ناکامی کے لیے
سرتوڑ کوشش بھی کرتے رہتے ہیں۔۔
میں
سارے ملک کے
ہر شعبہ ہائے زندگی میں تو
مقابلہ کلچر نہیں بدل سکتا لیکن
ایجوکیشن فیلڈ میں
ضلع میانوالی میں
مثبت مقابلہ فضا قائم کرنے
اور اپنے مدمقابل لوگوں کی
عزت نفس و حلال کمائی کو
پروردگار کی طرف سے
ان پر عنایت و انعام سمجھتے ہوئے،
قرآن و سنت کی روشنی میں
کچھ اصول طے کر لیے ہیں، الحمدللہ۔۔
1 - مدمقابل کے بارے
ہمیشہ اچھی رائے دینی ہے،
اس کی خوبیوں کو تسلیم کرنا ہے۔۔
اس کی کمزوریوں کو بیان نہیں کرنا بلکہ
اپنے عملی اقدامات سے
ان کی ان کمزوریوں کو اپنی طاقت بنانا ہے۔۔
2 - ہر حال میں
اپنے کالج کے
اساتذہ کرام، بچوں
اور ان کے والدین کو کمال اہمیت دینی ہے
اور ان سے کسی قسم کی بددیانتی نہیں کرنی ہے۔۔
3 - مدمقابل کو
ٹف ٹائم دینے کے لیے
اپنے اساتذہ کرام کو
پوری سیلری وقت مقررہ پر دینی ہے۔۔
4 - اپنے کالج کے
دو غریب بچوں کو
ہر سال 10 لاکھ روپے سکالرشپ
ڈاکٹر یا انجینئر بننے کے لیے نقد دینا ہے۔۔
5 - بچوں کے گھروں میں
ان کے والدین کے پاس
اپنے کالج میں
ایڈمشن کرانے کے لیے
ایم این اے، ایم پی اے کی طرح
کونسلر، چیئرمین کی طرح
ہر روز آنا جانا نہیں کرنا ہے
اور نہ ہی ان بچوں کو
اپنے کالج میں لانے کے لیے
اس بچے کے
چاچے، مامے، دادے، نانے، معلم، احباب رشتہ دار،
استعمال کرنے ہیں بلکہ
بچوں کو
خود اپنے لیے
بہترین کالج انتخاب کرنے کا حق دینا ہے۔۔
اور انھیں باصلاحیت
اور بااعتماد بننے کے مواقع فراہم کرنے ہیں۔۔
6 - جب ایک بچے کا معلوم ہو جائے کہ
وہ میانوالی کے
کسی دوسرے کالج میں داخلہ لے چکا ہے تو
پھر اسے
اس کالج کی امانت سمجھ کر حوصلہ کرنا ہے
اور سیاسی پارٹیوں کی طرح
ہارس ٹریڈنگ کرنے سے اجتناب کرنا ہے
اور اس بچے کو
ووٹ سمجھ کر توڑنے کے جتن نہیں کرنے ہیں۔۔
7 - جو پیکج بھی بنانا ہے،
روز آخر تک اس کی پابندی کرنی ہے
اور اس پیکج کی تصاویر
بچے کے والدین کو
پاس رکھنے کی تلقین کرنی ہے تاکہ
انھیں مستقبل میں دھوکہ نہ دیا جا سکے۔۔
8 - میانوالی کے مزدورں کو
جن کی 15 ہزار یا 15 ہزار سے کم آمدن ہے،
عظیم انسان سمجھ کر
ان کے بچوں، بہنوں بھائیوں کو
ہمیشہ کے لیے 75 فیصد سکالرشپ دینا ہے۔۔
9 - سٹوڈنٹس اور ان کے والدین کے سامنے
اپنے کالج کی
طالب علم دوست پالیسیاں بیان کرنی ہیں نہ کہ
دوسرے مدمقابل کالجز کے کپڑے اتارنے بیٹھ جانا ہے۔۔
10 - اللہ عزوجل کو
حقیقی رازق سمجھتے ہوئے
طالب علم کو بہلانے ورغلانے کی بجائے
حقائق کو مدنظر رکھنا ہے۔۔
وہ مطمئن ہو جائے تو بہت اچھی بات ہے ورنہ
اس بچے کو، اس کے والدین کو،
کمال احترام کے ساتھ رخصت کرنا ہے
اور انھیں کہنا ہے کہ
آپ کا یہ حق ہے کہ
اپنے بچے کے بارے بہترین فیصلہ کریں۔۔
آپ سارے کالجز وزٹ کریں
اور آخر میں
ہمارے کالج سمیت سارے کالجز میں سے
اپنے بچے کے لیے بہترین کالج کا انتخاب کریں۔۔
11 - کسی بچے کو
یہ ثابت کرنے کی کوشش نہیں کرنی کہ
بیٹا یا بیٹی
اگر آپ نے ہمارے کالج میں داخلہ نہ لیا تو
خدا نخواستہ آپ کا مستقبل تاریک ہو جائے گا !!!! بلکہ
اسے یہ سمجھانے کی کوشش کرنی ہے کہ
بیٹا !
جس کالج میں
آپ مطمئن ہوں گے، آپ محنت کریں گے،
وہی کالج
آپ کے لیے بہترین کالج ثابت ہو گا !!
12 - سٹوڈنٹس کو
یہ باور کرانا ہے کہ
کسی بھی کالج کی کامیابی
ان کی کامیابی میں ہی مضمر ہے۔۔
اللہ عزوجل
ہم سب کو
دین و دنیا میں
سربلند کیے رکھے، آمین۔۔
آپ سب سے درخواست ہے کہ
اگر
مندرجہ بالا اصول
آپ لوگوں کو
مثبت رویوں کو پروان چڑھانے والے لگیں،
مدمقابل کی شان بڑھانے والے لگیں،
مثبت مقابلہ بازی کی بنیاد رکھنے والے لگیں تو
خوب شیئر کیجیے گا
اور اگر
ان میں گنجائش ہو تو
ہماری رہنمائی کیجیے گا ! بہت شکریہ۔۔
----- دی ریڈر گروپ آف کالجز میانوالی -----
میانوالی سوشل میڈیاٹیم ملک ثمرعباس
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں