" میانوالی ! یونیورسٹی اور سیاست !"
میانوالی
بہت خوبصورت
اور جغرافیائی اہمیت کا حامل ضلع ہے۔۔
حسین، سادہ، دلیر، غیرت مند،
بھولے بھالے لوگوں کا ضلع ہے۔۔
یہاں کے لوگ
جہاں بےشمار خوبیوں سے مالا مال ہیں،
وہاں چند ناقابل تلافی
نقصان پہنچانے والی
خامیوں کا بھی شکار ہیں۔۔
یہاں اکثر لوگ
کسی نہ کسی
تگڑے دنیاوی سہارے کی تلاش میں رہتے ہیں۔۔
یہ سہارا
انھیں
کسی پیر صاحب یا پھر
کسی سیاسی صاحب کی صورت مل جاتا ہے۔۔
پیر صاحب کا سہارا
اولاد نرینہ کے لیے دعاؤں
اور کام کاروبار میں
ںرکت کے لیے دعاؤں کے کام آ جاتا ہے۔۔
سیاسی صاحب کا سہارا
کم پڑھے لکھے نوجوان بیٹوں کے لیے
سویپر، مالی، چوکیدار، گن مین، ڈرائیور، بکنگ کلرک کی
نوکری کے لیے کام آ جاتا ہے۔۔
سیاسی صاحب کا سہارا
فوتگیوں، کچہریوں، تھانوں میں بھی
خوب کام آتا ہے۔۔
چونکہ
سیاسیوں سے
فائدہ اٹھانے کے لیے،
نوجوانوں کو
چوکیدار، چپڑاسی، مالی، ڈرائیور، گن مین، بکنگ کلرک لگوانے کے لیے،
ان کا اعلی تعلیم یافتہ ہونا ضروری نہیں ہے،
اس لیے
میانوالی کے اکثر لوگ
میانوالی کے سیاسیوں کو
یونیورسٹی آف میانوالی کی طرف مائل ہی نہیں کرتے !!
اور سیاسی صاحبان بھی
یہاں کے لوگوں کی
ترجیحات و ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے
اسی لیے
یونیورسٹی آف میانوالی کو
توجہ دینا،
وقت کا ضیاع ہی سمجھتے ہیں۔۔
آئیں۔۔
اپنے وزیر اعظم کو
اپنے سیاسیوں کو
تعلیم اور تعلیمی اداروں سے دور رکھیں۔۔
اور
اپنی آنے والی نسلوں کو
چوکیدار، گن مین، مالی، ڈرائیور، سویپر رکھیں۔۔
میانوالی میں
تعلیم نہیں ہوگی تو
قتل وغارت، ڈاکہ زنی، چوری چکاری کا راج ہوگا۔۔
تھانے کچہری آباد ہوں گے۔۔
رشوت، سفارش کی افادیت آشکار ہوگی۔۔
سیاسی تعلقات کی ضرورت و اہمیت اجاگر ہوگی۔۔
خوشحال لوگ، بدحال ہوتے چلے جائیں گے۔۔
غربت جتنا بڑھتی چلی جائے گی۔۔
جہالت بھی اتنا زیادہ بڑھتی چلی جائے گی۔۔
پھر
نتیجتاً
سیاسی صاحبان سے
تعلقات کی
اہمیت بھی مزید بڑھتی چلی جائے گی۔۔
میانوالی کے
سارے سیاسیوں سے گزارش ہے کہ
میانوالی کے غیرت مند لوگوں کو
کبڈی، نیزہ بازی،
اصیل ککڑاں دی بھیڑ، رچھ کتے دی بھیڑ کی
طرف لگائے رکھیں،
یونیورسٹی آف میانوالی سے
ان کے بچوں کا کیا لینا دینا !!!
میانوالی اور یونیورسٹی کا آپس میں کیا جوڑ !!!
باقی جن لوگوں پر
تعلیم حاصل کرنے کا بھوت سوار ہے،
وہ اپنے بچوں کو
لاہور، سرگودھا، راولپنڈی، اسلام آباد، ملتان، فیصل آباد کی
یونیورسٹیوں سے
اعلی تعلیم حاصل کروا لیں گے۔۔
----- موساز -----
میانوالی سوشل میڈیاٹیم ملک ثمرعباس
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں